انڈین کرکٹر گوتم گمبھیر بی جے پی کا حصہ بننے کے بعد اپنے متنازع بیانات کی وجہ اکثر بےعزت ہوتے رہتے ہیں
گوتم گمبھیر خاص طور پر پاکستان مخالف ٹوئٹس کے لیے شہرت رکھتے ہیں اور اسی وجہ سے ان کی پاکستانی کرکٹرز خصوصاً شاہد آفریدی سے مقبوضہ کشمیر سمیت دیگر معاملات پر بحث بھی ہو چکی ہے۔
گمبھیر کو اس وقت منہ کی کھانا پڑی جب اس نے انڈیا کو فرانس کی طرف سے رافیل طیارے ملنے پر ایک ٹوئٹ کی۔
گوتم گمبھیر نے ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا کہ بڑے طیارے بالآخر یہاں پہنچ گئے ہیں
اس کے جواب میں کرکٹ کے مشہور آسٹریلوی صحافی ڈینس فریڈمین نے کہا کہ بس اس بات کو یقینی بنائیے گا کہ یہ سرحد عبور نہ کریں ورنہ یہ طلسماتی انداز میں بڑے لوہے کے کچرے کے ڈھیر میں تبدیل ہو جائیں گے۔
ڈینس فریڈمین دراصل گزشتہ سال 27 فروری کو ہوئے واقعے کا حوالہ دے رہے تھے جب پاک فضائیہ نے لائن آف کنٹرول پر بھارتی فضائیہ کے 2 لڑاکا طیاروں کو مار گرایا تھا۔
ایک بھارتی لڑاکا طیارہ مقبوضہ کشمیر میں گر کر تباہ ہوا تھا جبکہ دوسرا طیارہ پاکستان کے علاقے آزاد کشمیر زمین بوس ہوگیا تھا۔
پاکستان نے ایک بھارتی پائلٹ ابھی نندن کو گرفتار کیا تھا تاہم وزیر اعظم نے جذبہ خیرسگالی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بھارتی پائلٹ آزاد کر دیا تھا۔
اسی طرح 2018 میں بھارتی فوج کی طرف سے ریاستی دہشت گردی کے دوران اعلیٰ تعلیم یافتہ کشمیری نوجوان ڈاکٹر منان وانی کی شہادت پر جموں اور کشمیر کے سابق وزیراعلیٰ عمر عبداللہ اور بھارتی کرکٹر گوتم گمبھیر کے درمیان سوشل میڈیا پرگرماگرمی ہو گئی تھی
گوتم گمبھیر ٹوئٹر پر ٹوئٹ کیا تھا کہ منان وانی کی ہلاکت؛ ہم نے ایک دہشت گرد اور بنیاد پرست کو ختم کردیا عمرعبداللہ محبوبہ مفتی آئی این سی انڈیا اور بی جے پی فار انڈیا اس بات پر شرمندہ ہیں کہ انہوں نے کس طرح ایک نوجوان کو کتاب سے دور کرکے اس کے ہاتھ میں گولی تھما دی
اس پر عمر عبداللہ نے ٹوئٹ کیا کہ یہ شخص بمشکل ہی نقشے پر ڈاکٹر منان کا ضلع یا اس کا گاؤں تلاش کرسکتا ہے لیکن انہیں یہ معلوم ہو چکا ہے کہ کشمیر میں ایک نوجوان نے کس طرح ہتھیار اٹھائے








No comments:
Post a Comment