حکومت نے مین اسٹریم اور سوشل میڈیا دونوں پر کورونا وائرس سے متعلق جعلی خبریں پھیلانے والے افراد کے خلاف سخت کارروائی کی ہدایت کردی
گزشتہ ہفتے زیرداخلہ برگیڈیئر (ر) اعجاز شاہ کی سربراہی میں نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر *این سی او سی* اجلاس ہوا ۔ اس میں لیگل فریم ورک تیار کرنے کے لئے کمیٹی تشکیل دی گئی تاکہ کرونا وائرس سے متعلق جعلی معلومات کے پھیلاو کا مقابلہ کیا جاسکے
کمیٹی میں وزیر داخلہ کے ساتھ وزیراعظم کے فوکل پرسن برائے کورونا وائرس ڈاکٹر فیصل سلطان اور فوکل پرسن برائے ڈیجیٹل میڈیا ڈاکٹر ارسلان خالد سینئر اراکین کے طور پر موجود تھے۔
اس میں انٹرسروسز پبلک ریلیشنز * آئی ایس پی آر* وفاقی تحقیقاتی ایجنسی*ایف آئی اے* کا سائبر کرائم سیل پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی *پیمرا* پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی *پی ٹی اے* کے سائبر ویجیلینس اور ویب اینالیسز ڈپارٹمنٹس این سی او سی کے تجزیاتی گروپ کے ساتھ ساتھ وزارت صحت اور اطلاعات کے عہدیداران بھی موجود تھے
پریس ریلیز کے مطابق وزیر داخلہ اعجاز شاہ نے کہا کہ کرونا وائرس سے متعلق غلط معلومات پھیلانے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی
وزیر داخلہ نے ایف آئی کے سائبر کرائم ونگ کے ڈائریکٹر کو ہدایت کی کہ وہ نہ صرف میڈیا کی نگرانی کریں بلکہ غلط معلومات پھیلانے والے لوگوں کو ان کے اقدامات پر ذمہ دار بھی ٹھہرائیں
انہوں نے کہا کہ ایسے افراد کے خلاف سخت اور فوری کارروائی کی جانی چاہیے۔انہوں نے ڈائریکٹر جنرل پیمرا کو ہدایت کی کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ الیکٹرانک میڈیا پر اس حوالے سے کوئی جعلی خبرنہ چلے
وزیرداخہ کے مطابق کمیٹی کا بنیادی مقصد لوگوں تک درست معلومات کی فراہمی ہے
انہوں نے کہا کہ کرونا وائرس سے متعلق غلط معلومات پھیلانے اور گمراہ کرنے والوں کو تمام وسائل کو بروئےکار لاکر تلاش کیا جائے گا۔اس کے لئے انہوں نے تمام افراد اور اداروں کو اپنا کردار ادا کرنے کا کہا
وزیر اعظم کے فوکل پرسن برائے ڈیجیٹل میڈیا ڈاکٹر ارسلان خالد نے بتایا کہ فوکل پرسن آن لائن جعلی مواد کا پتا لگانے کے ذمہ دار ہوں گے جبکہ آئی ایس پی آر اور وزارت داخلہ کی مدد سے ٹی وی پر جعلی مواد کا پتا لگایا جائے گا
پھر اس مواد کو وزارت صحت کو ارسال کیا جائے گا اور ماہرین صحت یہ فیصلہ کریں گے مواد جعلی ہے یا اصلی
فوکل پرسن کے مطابق اگر طبی ماہرین اس نتیجہ پر پہنچے کی تشخیص کردہ مواد حکومت یا عوام میں خوف افراتفری یا عدم تٖحفظ کا احساس پیدا کر سکتا ہے تو پاکستان الیکٹرانک کرائمز ایکٹ 2016 * پیکٹا * کے تحت پی ٹی اے یا پیمرا ذمہ داران تک رسائی حاصل کریں گے
اوراگر ذمہ دار شخص پی ٹی اے کی بات نہیں سنتا اور مواد نہیں ہٹاتا تو وزارت صحت افراتفری پھیلانے سے متعلق سائبر کرائم قانون کے سیکشن 10 اے کے تحت تحریری حکم کے ذریعے ایف آئی اے سے رجوع کرے گی







No comments:
Post a Comment