ایف بی آر نے بینکوں سے ماہانہ ایک کروڑ روپے اکاؤنٹ میں جمع کرنیوالوں اور دس لاکھ ماہانہ نکلوانے والوں کا ڈیٹا مانگ لیا
فنانس ایکٹ 2020 کے تحت ایف بی آر نے ڈرافٹ رولز جاری کیا ہے جس کے تحت بینکوں سے ان تمام لوگوں کا ڈیٹا طلب کیا گیا ہے جنہوں نے ایک ماہ میں اکائونٹس میں ایک کروڑ روپے جمع کیے ہوں یا پھرماہانہ دو لاکھ روپے کی ادائیگی کریڈٹ کارڈ کے ذریعےکی ہو یا ایک ماہ کے اندر دس لاکھ روپے بینک سے نکلواے ہوں۔
مندرجہ بالا تفصلات کے علاوہ ایف بی آر نے بینکوں سےان افراد کے سی این آئی سی- این آئی سی او پی- این ٹی این - پاسپورٹ نمبر- نام- ٹائٹل اکائونٹ- رہائش یا عدم رہائش- پتہ- ٹیلی فون نمبر- اکائونٹ کھلوانے کی تاریخ- اکائونٹ نمبر (آئی بی اے این) - نکلوائی گئی رقم - مہینے میں جمع کی گئی رقم- ٹیکس کٹوتی کی رقم- کاروبار- پیشہ وغیرہ کی تفصلات بھی طلب کی ہیں۔
انکم ٹیکس آرڈیننس 165 اے کے تحت ہر بینک افسر مطلوبہ معلومات فراہم کرنے کا پابند ہوہے اور ہر بینک بورڈ کو دیئے گئے وقت میں معلومات فراہم کرے گا۔ ہر سال 31 مئی سالانہ مقامی رپورٹنگ کی تاریخ ہے۔







No comments:
Post a Comment