دبئی
میں ایک کاروباری شخصیت ہیں عارف نقوی صاحب جو
کہ پاکستانی ہیں
اور ابراج گروپ کے بانی ہیں ان کے بارے میں وزیر
اعظم عمران خان کی
سابقہ اہلیہ نے اپنی کتاب میں انکشاف کیا تھا کہ انہوں نے
2013ءکے انتخابات میں تحریک انصاف کی انتخابی
مہم کے 60فیصد سے زائد
اخراجات برداشت کئے ۔ ان انتخابات کے کچھ عرصہ بعد ہی عارف
نقوی کی کمپنی
ابراج گروپ دیوالیہ ہونے کے قریب پہنچ گئی
اس کے سرمایہ کاروں نے الزام لگایا کہ ان کا سرمایہ
عارف نقوی
صاحب نے اپنی سیاسی سرگرمیوں
میں خرچ کردیا
اس کے بعد ابراج گروپ کے باقاعدہ دیوالیہ ہونے کا اعلان کیا گیا اور
لیکوئیڈیٹرز کو اس کے اختتامی کھاتہ جات کی
جانچ پڑتال پر معمور کر دیا گیا۔ اب ان
لیکوئیڈیٹرز نے بھی انکشاف کیا ہے کہ عارف
نقوی نے کمپنی سے ساڑھے 38 کروڑ
ڈالر جو کہ تقریباً 63ارب 33کروڑ روپے بنتے ہیں چوری
کیے تھے۔
رپورٹ
کے مطابق عارف نقوی کمپنی کے دیوالیہ ہونے کے
بعدفرار ہو کر لندن چلے
گئےتھے جہاں انہیں ان کے گھر میں ہی زیرحراست رکھا جا رہا
ہے۔ ان کے خلاف
دبئی امریکہ اور برطانیہ
میں مقدمات چل رہے ہیں
لیکوئیڈیٹرز
کی اس رپورٹ میں یہ انکشاف کیا گیا ہے کہ
پراسیکیوٹرز نے عارف نقوی
پر جتنی رقم غبن
کرنے کا الزام عدالت میں عائد کر رکھا ہے انہوں نے اس سے
زیادہ رقم کا غبن کی ہے
امریکی
عدالت میں پراسیکیوٹرز نے موقف اختیار کر رکھا ہے کہ عارف نقوی نے
25کروڑ ڈالر کی
رقم چوری کی لیکن ابراج گروپ کے معاملات کی تحقیقات کرنے
والے لیکوئیڈیٹرز نے بتایا کہ انہوں نے ساڑھے 38کروڑ ڈالر چوری کیےہیں ۔
واضح
رہے کہ ابراج گروپ کے تحت 40سے زائد نجی ایکوئٹی فنڈز چلتے تھے جن کے
مجموعی
اثاثے 14ارب ڈالر سے زائد تھے۔ 2018ءمیں جب یہ گروپ دیوالیہ ہوا تو
یہ دنیا کی
دیوالیہ ہونے والی سب سے بڑی نجی ایکوئٹی فرم تھی۔







No comments:
Post a Comment